اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ناظمیہ عربی کالج میں مولانا محمد مجتبی حسین مر حوم کی ترویح روح اور ایصال ثواب کے لیے ایک مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا ۔ پروگرام کا آغاز مولانا محمد شاکر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ پروگرام کی نظامت مولانا امیر حسن کی ۔ جامعہ ناظمیہ کے طلاب شعرائے کرام نے بھی منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔جس میں مولانا عمار رضا ، مولانا شجاع عسکری ، مولانا ایلیا عباس، مولانا کامران حسین ، بالخصوص مولانا جعفر طیار نے مولانا محمد طاہر مبارکپوری کی اور مولانا محمد اصغر جلالپوری نے مولانا اصغر اعجاز قائمی کی تعزیتی نظم کو پیش کیا ۔مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد مرتضی حسین پاوری پروفیسر ناظمیہ عربی کالج نے کہا کہ کچھ محبت کے تقاضے ہوتے ہیں ۔جہاں آدمی کو ہمت کرنی پڑتی ہے ۔ لیکن مجھ جیسا طالب علم ان علما اور اساتذہ کے سامنے کیا کیسے لب کشائی کر سکتا ہے مگر جب دست پیغمبر پر سنگریزے بول سکتے ہیں تو مجھ جیسا طالب علم منبر پر آکر بول سکتا ہے ۔ میرے نزدیک کسی عزیز کی مجلس ایصال ثواب پڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور انہیں مراحل میں ایک مرحلہ مولانا محمد مجتبی حسین کی ایصال کی مجلس کو پڑھنا ہے ۔ لیکن آیت اللہ سید حمید الحسن اور مولانا ظہیر عباس کا حکم اور غمزدہ کنبہ کے افراد کی گزارش تھی جس کی تعمیل کے لیے میں حاضر ہوا ہوں ۔
مولانا محمد مرتضی حسین پاوری نے مزید کہاکہ تعریف کے بھی دو محل ہوتے ہیں ایک فضائل اور انداز وہ ہوتا ہے جہاں ہمیں کچھ کرنا نہیں ہوتا ہے دوسرا محل وہ ہو تا ہے جہاں دعوت فکر ہوتی ہے ۔ مولاحضرت علیؑکے بہت سے فضائل ایسے ہیں جہاں ہمیں فکر اور عمل کی دعوت دی گئی ہے وہاں ہمارا مجمع خاموش ہو جا تا ہے ۔ اور جہاں ہمیں کچھ کرنا نہیں ہو تا ہے وہاں نعرے لگتے ہیں۔ دوستی حق تو تبھی ادا ہوگا کہ ہم دونوں پہلو ؤںپر خوش ہوں۔ اگر نماز کا ذکر ہو تو اس پر بھی خوش ہو ںاگر خیبر کا ذکر ہو تو اس پر خوش ہوں ۔ قربت قرابت کی محتاج نہیں ہے البتہ قرابت میں قر بت کی ضرورت پڑتی ہے ۔ قربت کی منزل اور ہے قرابت کی منزل اور ہے قربت کی اہمیت میری نظر زیا دہ ہےقرابت تو ہوتی ہی ہے اورقرابت سے آپ سمجھ جائیےکہ قربت ہی تھی جہاں "منا" تھا یہ قربت ہی منزل تھی جہاں سلمان منااستعمال تھا ۔ وہاں قربت اور قرابت دونوں تھی جہاں منی استعمال ہوا ہے ۔
مولانا محمد مرتضی حسین پاوری نے شہرہ آفاق جامعہ کی علمی خدمات اور مولانا محمد مجتبی حسین مر حوم کی علمی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ 50 برس سے یا اس سے زیادہ ہم لوگ اور ہمارے ہم جماعتی افراد ہمیشہ اسی ناظمیہ کے مسند علم پر ہمیشہ علمی مباحثہ کرتے تھے ۔ آج پچاس برس سے جس درجہ اجتھادکے مدرس اعلیٰ کا ساتھ رہا وہ آج ہم سے بچھڑ گیا ۔ اس مدرسہ نا ظمیہ نے دوریوں کو قربت میں تبدیل کر دیا ۔مولانا مجتبی حسین مر حوم نے ہمیشہ طلاب کے تئیں بیدار رہتے تھے ۔ مرحوم اپنے مسند علم کے ذریعہ لاتعدا دعلما و فقہا ، حکما ، مجتہد پیدا کیے ۔ طلاب کو زیو ر علم سے آراستہ کیا ۔جو اس وقت دنیا کے مختلف جگہوں پر علم کی روشنی بکھیر رہے ہیں ۔یہاں کر دار سازی کی جاتی ، ہنر کو نکھانے کے ساتھ ساتھ مہارت فروغ کے اصول پر کام کیا جاتا ہے ۔ اسی مدرسہ ناظمیہ نے ایسے لاتعدا د علما ، فقہا ، مدرس اعلیٰ ،حکما دیئے جس کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ اسی مدرسہ ناظمیہ میں میں نے سرکار مفتی اعظم کو دیکھا تھا اور مجھے فخر ہے کہ میںنے ان کے سامنے زانوئے تلمد تہہ کیا ۔ موجود سرپرست آیت اللہ سید حمید الحسن ہیں جن علمی ، سماجی ، اقتصادی اور انتھک نیزلامتناہی کا وشیں اب آپ سب کے سامنے ہیں ۔ اگر اساتیذ اور مدرسہ کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو علوم آل محمد اور سیرت آل محمد پر اپنی زندگی بسر کرو ۔مولانانے تمام اساتذہ اور شاگروں کی خدمات تعزیت پیش کی ۔ آخر میں مولانا مصائب بیان کیے جسے سن کر تمام لوگوں گریہ کیا ۔ پروگرام میں مدرسہ ناظمیہ کے اساتذہ و طلاب کرام کے علاوہ غمزدہ کنبے کے افراد اور دیگر حضرات کثیر تعداد میں موجود تھے ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242